جمعرات 12 فروری 2026 - 17:01
ایپسٹین فائلز؛ انسانیت کی شرمساری کا باعث: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ/ اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے ان دنوں پوری دنیا میں موضوع گفتگو قرار پانے والی ایپسٹین فائلز کے بارے میں کہا کہ ایپسٹین فائلز انسانیت کو شرمسار کردینے والی ہیں یہ صرف فائلیں نہیں، بلکہ انسانیت کے سینے پر لگے ایسے زخم ہیں جو ہر صفحہ پلٹنے کے ساتھ اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے ان دنوں پوری دنیا میں موضوع گفتگو قرار پانے والی ایپسٹین فائلز کے بارے میں کہا کہ ایپسٹین فائلز انسانیت کو شرمسار کردینے والی ہیں یہ صرف فائلیں نہیں، بلکہ انسانیت کے سینے پر لگے ایسے زخم ہیں جو ہر صفحہ پلٹنے کے ساتھ اور گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین فائلز نے وہ پردے چاک کیے جن کے پیچھے مشرق و مغرب کے رئیس و روسا اپنی طاقت اور دولت کے غرور میں مست تھے۔ ان دستاویزات میں معصومیت کی چیخیں ہیں، بے بسی کی سسکیاں ہیں، اور وہ لرزہ خیز حقیقتیں ہیں جس نے اخلاق اور انسانیت کو روند ڈالا تھا۔

مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ چھ ملین سے زائد صفحات پر مشتمل یہ ریکارڈ محض کاغذوں کا انبار نہیں ؛ یہ ایک ایسے تاریک جال کی تفصیل تھی جس میں امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ طفلی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور اس کے بااثر سماجی حلقے کے مبینہ جرائم کی پرتیں کھلتی چلی جاتی تھیں۔ ان میں سیاست دانوں، کاروباری شخصیات اور مشہور چہروں کے نام گردش کرتے رہے، اور ہر نیا انکشاف عوامی اعتماد کی ایک اور اینٹ گرا دیتا تھا۔

اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ یہ کہانی صرف چند افراد کے جرائم کی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی تھی جہاں اقتدار کے ایوانوں میں ضمیر کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے اور انصاف کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران جب ان فائلوں کو منظرِ عام پر لانے کی بات کی گئی تو امید اور سنسنی کی ایک نئی لہر اٹھی، مگر بعد ازاں بیانات بدلتے رہے اور سیاسی الزام تراشیوں نے حقیقت کو مزید دھندلا دیا۔ یوں یہ معاملہ صرف ایک فوجداری کیس نہ رہا، بلکہ سیاست، طاقت اور سچ کے درمیان کشمکش کی علامت بن گیا۔

حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ ایپسٹین فائلز انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا سیاہ دھبہ ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ ان میں مشرق و مغرب کے بااثر رئیس و روسا کی وہ بھیانک حقیقتیں بے نقاب ہوتی ہیں جنہوں نے اقتدار اور دولت کے نشے میں اخلاق، شرافت اور انسانیت کو روند کر سفاکی کی لرزہ خیز داستانیں رقم کیں۔ ہر انکشاف کے ساتھ یہ احساس گہرا ہوتا گیا کہ جب طاقت بے لگام ہو جائے تو انسانیت کس قدر ارزاں ہو جاتی ہے۔ اور یوں یہ فائلیں محض قانونی ریکارڈ نہ رہیں، بلکہ ایک اجتماعی شرمندگی، ٹوٹے ہوئے اعتماد اور سوالوں سے بھرے مستقبل کی داستان بن گئیں۔

اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب صدر حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ ایپسٹین اسکینڈل نے یہ سوال پوری شدت سے اٹھا دیا ہے کہ انسان کی اصل تعریف کیا ہے؟ کیا وہ محض خواہشات کا مجموعہ ہے یا اخلاقی ذمے داری کا حامل ایک باوقار وجود؟ مغربی تہذیب نے دنیا کو صرف آزادی کے نام پر حیوانیت کو فروغ دیاہے جبکہ اسلام عظمتِ انسانیت کا علمبردار اور کامل نمونہ ہے، اسلام انسان کو ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا کرتا ہے جو اسے اخلاقی، سماجی اور روحانی اصولوں کے دائرے میں رہ کر باوقار زندگی گزارنے کی رہنمائی دیتا ہے۔ یہ دین انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت طاقت یا دولت میں نہیں، بلکہ کردار، تقویٰ اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری میں ہے۔

حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی نے کہا کہ اسلام احترامِ انسانیت کو بنیادی قدر قرار دیتا ہے۔ وہ جان، مال اور عزت کے تحفظ کو مقدس امانت سمجھتا ہے اور ہر فرد کو اس بات کا مکلف ٹھہراتا ہے کہ وہ اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کے لیے آسانی اور خیر کا سبب بنے۔ حسنِ اخلاق، نرم خوئی، درگزر، عدل و انصاف اور خدمتِ خلق وہ ستون ہیں جن پر ایک صالح معاشرہ استوار ہوتا ہے۔یہ دین انسان کو محض عبادات تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے یاد دلاتا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ یوں اسلام اشرف المخلوقات کے مقام کو برقرار رکھنے کے لیے کردار کی بلندی، دل کی پاکیزگی اور معاشرتی ذمہ داری کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔ یہی بنیاد ہے جس پر دونوں راستے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ ایک طرف وہ تاریک قوتیں ہیں جو لالچ، فساد اور غلامی کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف اسلام ہے جو انسان کو اخلاق، شعور اور روحانیت کے ذریعے اپنی اصل پہچان دلانے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہی فرق اصل تصادم کی جڑ ہے۔اسی لیے ایپسٹین کے جزیرے پر بیٹھے شیاطین اسلام سے خوفزدہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر امت مسلمہ اپنی فکری خودمختاری حاصل کر لے، اگر انسان اپنی حقیقی پہچان پہچان لے، تو طاقت، دولت اور وسائل کے ذریعے نافذ کی جانے والی نوآبادیاتی غلامی، استحصالی معیشت اور تہذیبی یلغار کا خاتمہ خود بخود شروع ہو جائے گا۔ اسلام کی روشنی انسان کے دل و دماغ کو بیدار کرتی ہے، اور یہ وہ طاقت ہے جو ظلم، استحصال اور منافقت کے تاریک جال کو چاک کر سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha